التوبة 9:79 الذين يلمزون المطوعين من المومنين في الصدقات والذين لا يجدون الا جهدهم فيسخرون منهم سخر الله منهم ولهم عذاب اليم ٧٩
اَلَّذِیْنَ
یَلْمِزُوْنَ
الْمُطَّوِّعِیْنَ
مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
فِی
الصَّدَقٰتِ
وَالَّذِیْنَ
لَا
یَجِدُوْنَ
اِلَّا
جُهْدَهُمْ
فَیَسْخَرُوْنَ
مِنْهُمْ ؕ
سَخِرَ
اللّٰهُ
مِنْهُمْ ؗ
وَلَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
(وہ خوب جانتا ہے ان کنجوس دولت مندوں کو) جو برضا ورغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیون پر باتیں چھانٹتے ہیں ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہ خدا میں دینے کے لیے) اس کے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کرکے دیتے ہیں۔ اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافقوں کا مومنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک انداز ٭٭…
یہ بھی منافقوں کی ایک بدخصلت ہے کہ ان کی زبانوں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا نہ سخی نہ بخیل، یہ عیب جو، بدگو لوگ بہت برے ہیں۔ اگر کوئی شخص بڑی رقم اللہ کی راہ میں دے تو یہ اسے ریاکار کہنے لگتے ہیں اور اگر کوئی مسکین اپنی مالی کمزوری کی بنا پر تھوڑا بہت دے ت
منافقوں کا مومنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک انداز ٭٭…
یہ بھی منافقوں کی ایک بدخصلت ہے کہ ان کی زبانوں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا نہ سخی نہ بخیل، یہ عیب جو، بدگ