التوبة 9:92 ولا على الذين اذا ما اتوك لتحملهم قلت لا اجد ما احملكم عليه تولوا واعينهم تفيض من الدمع حزنا الا يجدوا ما ينفقون ٩٢
وَّلَا
عَلَی
الَّذِیْنَ
اِذَا
مَاۤ
اَتَوْكَ
لِتَحْمِلَهُمْ
قُلْتَ
لَاۤ
اَجِدُ
مَاۤ
اَحْمِلُكُمْ
عَلَیْهِ ۪
تَوَلَّوْا
وَّاَعْیُنُهُمْ
تَفِیْضُ
مِنَ
الدَّمْعِ
حَزَنًا
اَلَّا
یَجِدُوْا
مَا
یُنْفِقُوْنَ
۟ؕ
اور نہ ہی ان پر (کوئی الزام ہے) جو آئے آپ ﷺ کے پاس کہ آپ ﷺ ان کے لیے سواری کا انتظام کردیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس بھی کوئی چیز نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کرسکوں (تو مجبوراً) وہ لوٹ گئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج سے کہ ان کے پاس کچھ نہیں جسے وہ خرچ کرسکیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭…
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار ی
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭…
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں م