التوبة 9:93 ۞ انما السبيل على الذين يستاذنونك وهم اغنياء رضوا بان يكونوا مع الخوالف وطبع الله على قلوبهم فهم لا يعلمون ٩٣
اِنَّمَا
السَّبِیْلُ
عَلَی
الَّذِیْنَ
یَسْتَاْذِنُوْنَكَ
وَهُمْ
اَغْنِیَآءُ ۚ
رَضُوْا
بِاَنْ
یَّكُوْنُوْا
مَعَ
الْخَوَالِفِ ۙ
وَطَبَعَ
اللّٰهُ
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
فَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے)
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭…
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار ی
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭…
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں م