الزخرف 43:36 ومن يعش عن ذكر الرحمان نقيض له شيطانا فهو له قرين ٣٦
وَمَنْ
یَّعْشُ
عَنْ
ذِكْرِ
الرَّحْمٰنِ
نُقَیِّضْ
لَهٗ
شَیْطٰنًا
فَهُوَ
لَهٗ
قَرِیْنٌ
۟
اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَ
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے