الزخرف 43:37 وانهم ليصدونهم عن السبيل ويحسبون انهم مهتدون ٣٧
وَاِنَّهُمْ
لَیَصُدُّوْنَهُمْ
عَنِ
السَّبِیْلِ
وَیَحْسَبُوْنَ
اَنَّهُمْ
مُّهْتَدُوْنَ
۟
اور وہ (شیاطین) ان کو روکتے ہیں سیدھے راستے سے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَ
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے