الزخرف 43:38 حتى اذا جاءنا قال يا ليت بيني وبينك بعد المشرقين فبيس القرين ٣٨
حَتّٰۤی
اِذَا
جَآءَنَا
قَالَ
یٰلَیْتَ
بَیْنِیْ
وَبَیْنَكَ
بُعْدَ
الْمَشْرِقَیْنِ
فَبِئْسَ
الْقَرِیْنُ
۟
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی شیطان سے) کہے گا کہ کاش میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ُ تو تو بہت ہی برا ساتھی ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَ
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے