الزخرف 43:40 افانت تسمع الصم او تهدي العمي ومن كان في ضلال مبين ٤٠
اَفَاَنْتَ
تُسْمِعُ
الصُّمَّ
اَوْ
تَهْدِی
الْعُمْیَ
وَمَنْ
كَانَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے “۔
آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَ
شیطان سے بچو ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ ” جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے