الزخرف 43:57 ۞ ولما ضرب ابن مريم مثلا اذا قومك منه يصدون ٥٧
وَلَمَّا
ضُرِبَ
ابْنُ
مَرْیَمَ
مَثَلًا
اِذَا
قَوْمُكَ
مِنْهُ
یَصِدُّوْنَ
۟
اور جب (قرآن میں) ابن ِمریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو اس پر آپ کی قوم چلانے ّلگتی ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭…
«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔“
اس کی
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭…
«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسن