الزخرف 43:80 ام يحسبون انا لا نسمع سرهم ونجواهم بلى ورسلنا لديهم يكتبون ٨٠
اَمْ
یَحْسَبُوْنَ
اَنَّا
لَا
نَسْمَعُ
سِرَّهُمْ
وَنَجْوٰىهُمْ ؕ
بَلٰی
وَرُسُلُنَا
لَدَیْهِمْ
یَكْتُبُوْنَ
۟
کیا خیال رکھتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے ان کا بھید اور ان کا مشورہ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے انکے پاس لکھتے رہتے ہیں 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭…
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭…
اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ” یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ