الزمر 39:15 فاعبدوا ما شيتم من دونه قل ان الخاسرين الذين خسروا انفسهم واهليهم يوم القيامة الا ذالك هو الخسران المبين ١٥
فَاعْبُدُوْا
مَا
شِئْتُمْ
مِّنْ
دُوْنِهٖ ؕ
قُلْ
اِنَّ
الْخٰسِرِیْنَ
الَّذِیْنَ
خَسِرُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
وَاَهْلِیْهِمْ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
اَلَا
ذٰلِكَ
هُوَ
الْخُسْرَانُ
الْمُبِیْنُ
۟
تو تم جس کو چاہو پوجو اس کے سوا ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اصل میں خسارے میں رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈالا قیامت کے دن آگاہ ہو جائو یہی تو کھلا خسارا ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہیئے۔ تم
نافرمانوں کے لئے قیامت کے دن کا عذاب ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ ” لوگوں میں اعلان کر دو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن عذاب الٰہی سے بے خوف نہیں ہوں۔ ا