الزمر 39:24 افمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة وقيل للظالمين ذوقوا ما كنتم تكسبون ٢٤
اَفَمَنْ
یَّتَّقِیْ
بِوَجْهِهٖ
سُوْٓءَ
الْعَذَابِ
یَوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
وَقِیْلَ
لِلظّٰلِمِیْنَ
ذُوْقُوْا
مَا
كُنْتُمْ
تَكْسِبُوْنَ
۟
اب اس شخص کی بدحالی کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا ؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ ، اس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
روزِ قیامت کا احوال ٭٭…
ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیسے فرمایا «أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [67-الملك:22] ” اوندھے منہ، منہ
روزِ قیامت کا احوال ٭٭…
ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن و امان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہو سکتے ہیں؟ جیس