الزمر 39:29 ضرب الله مثلا رجلا فيه شركاء متشاكسون ورجلا سلما لرجل هل يستويان مثلا الحمد لله بل اكثرهم لا يعلمون ٢٩
ضَرَبَ
اللّٰهُ
مَثَلًا
رَّجُلًا
فِیْهِ
شُرَكَآءُ
مُتَشٰكِسُوْنَ
وَرَجُلًا
سَلَمًا
لِّرَجُلٍ ؕ
هَلْ
یَسْتَوِیٰنِ
مَثَلًا ؕ
اَلْحَمْدُ
لِلّٰهِ ۚ
بَلْ
اَكْثَرُهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں1 ، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے2۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭…
چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چنانچہ ارشاد ہے «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» [30-الروم:28] ” اللہ نے تمہارے لیے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے ٭٭…
چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آ جاتی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے