الزمر 39:49 فاذا مس الانسان ضر دعانا ثم اذا خولناه نعمة منا قال انما اوتيته على علم بل هي فتنة ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٤٩
فَاِذَا
مَسَّ
الْاِنْسَانَ
ضُرٌّ
دَعَانَا ؗ
ثُمَّ
اِذَا
خَوَّلْنٰهُ
نِعْمَةً
مِّنَّا ۙ
قَالَ
اِنَّمَاۤ
اُوْتِیْتُهٗ
عَلٰی
عِلْمٍ ؕ
بَلْ
هِیَ
فِتْنَةٌ
وَّلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
سو جب آ لگتی ہے آدمی کو کچھ تکلیف ہم کو پکارنے لگتا ہے 1 پھر جب ہم بخشیں اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت کہتا ہے یہ تو مجھ کو ملی کہ پہلے سے معلوم تھی 2 کوئی نہیں یہ جانچ ہے پر وہ بہت سے لوگ نہیں سمجھتے 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان کا ناشکرا پن ٭٭…
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ” مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہو جاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہو گئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا “۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ
انسان کا ناشکرا پن ٭٭…
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ ” مشکل کے وقت تو وہ آہ و زاری شروع کر دیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب