فاطر 35:12 وما يستوي البحران هاذا عذب فرات سايغ شرابه وهاذا ملح اجاج ومن كل تاكلون لحما طريا وتستخرجون حلية تلبسونها وترى الفلك فيه مواخر لتبتغوا من فضله ولعلكم تشكرون ١٢
وَمَا
یَسْتَوِی
الْبَحْرٰنِ ۖۗ
هٰذَا
عَذْبٌ
فُرَاتٌ
سَآىِٕغٌ
شَرَابُهٗ
وَهٰذَا
مِلْحٌ
اُجَاجٌ ؕ
وَمِنْ
كُلٍّ
تَاْكُلُوْنَ
لَحْمًا
طَرِیًّا
وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ
حِلْیَةً
تَلْبَسُوْنَهَا ۚ
وَتَرَی
الْفُلْكَ
فِیْهِ
مَوَاخِرَ
لِتَبْتَغُوْا
مِنْ
فَضْلِهٖ
وَلَعَلَّكُمْ
تَشْكُرُوْنَ
۟
اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتا ہے خوشگوار ہے پینا اس کا اور یہ کھارا کڑوا اور دونوں میں سے کھاتے ہو گوشت تازہ اور نکالتے ہو گہنا جسکو پہنتے ہو 1 اور تو دیکھے جہازوں کو اس میں کہ چلتے ہیں پانی کو پھاڑتے تاکہ تلاش کرو اسکے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قدرت الٰہی ٭٭…
مختلف قسم کی چیزوں کی پیدائش کو بیان فرما کر اپنی زبردست قدرت کو ثابت کر رہا ہے۔ دو قسم کے دریا پیدا کر دیئے ایک تو صاف ستھرا میٹھا اور عمدہ پانی جو آبادیوں میں جنگلوں میں برابر بہہ رہا ہے اور دوسرا ساکن دریا جس کا پانی کھاری اور کڑوا ہے جس میں بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز چل رہے ہیں اور دون
قدرت الٰہی ٭٭…
مختلف قسم کی چیزوں کی پیدائش کو بیان فرما کر اپنی زبردست قدرت کو ثابت کر رہا ہے۔ دو قسم کے دریا پیدا کر دیئے ایک تو صاف ستھرا میٹھا اور ع