فاطر 35:18 ولا تزر وازرة وزر اخرى وان تدع مثقلة الى حملها لا يحمل منه شيء ولو كان ذا قربى انما تنذر الذين يخشون ربهم بالغيب واقاموا الصلاة ومن تزكى فانما يتزكى لنفسه والى الله المصير ١٨
وَلَا
تَزِرُ
وَازِرَةٌ
وِّزْرَ
اُخْرٰی ؕ
وَاِنْ
تَدْعُ
مُثْقَلَةٌ
اِلٰی
حِمْلِهَا
لَا
یُحْمَلْ
مِنْهُ
شَیْءٌ
وَّلَوْ
كَانَ
ذَا
قُرْبٰی ؕ
اِنَّمَا
تُنْذِرُ
الَّذِیْنَ
یَخْشَوْنَ
رَبَّهُمْ
بِالْغَیْبِ
وَاَقَامُوا
الصَّلٰوةَ ؕ
وَمَنْ
تَزَكّٰی
فَاِنَّمَا
یَتَزَكّٰی
لِنَفْسِهٖ ؕ
وَاِلَی
اللّٰهِ
الْمَصِیْرُ
۟
اور نہ اٹھائے گا کوئی اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا اور اگر پکارے کوئی بوجھل اپنا بوجھ بٹانے کو کوئی نہ اٹھائے اس میں سے ذرا بھی اگر چہ ہو قرابتی 1 تو تو ڈر سنا دیتا ہے انکو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور قائم رکھتے ہیں نماز 2 او جو کوئی سنورے گا تو یہی ہے کہ سنورے گا اپنے فائدہ کو اور اللہ کی طرف ہے سب کو پھر جانا 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ قادر مطلق ٭٭…
اللہ ساری مخلوق سے بے نیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس کے سامنے ہر کوئی ذلیل ہے اور وہ عزیز ہے۔کسی قسم کی حرکت و سکون پر کوئی قادر نہیں سانس تک لینا کسی کے بس میں نہیں۔ مخلوق بالکل ہی بیبس ہے۔ غنی بےپرواہ ا
اللہ قادر مطلق ٭٭…
اللہ ساری مخلوق سے بے نیاز ہے اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ غنی ہے اور سب فقیر ہیں۔ وہ بےپرواہ ہے اور سب اس کے حاجت مند ہیں۔ اس ک