فاطر 35:22 وما يستوي الاحياء ولا الاموات ان الله يسمع من يشاء وما انت بمسمع من في القبور ٢٢
وَمَا
یَسْتَوِی
الْاَحْیَآءُ
وَلَا
الْاَمْوَاتُ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُسْمِعُ
مَنْ
یَّشَآءُ ۚ
وَمَاۤ
اَنْتَ
بِمُسْمِعٍ
مَّنْ
فِی
الْقُبُوْرِ
۟
اور نہ برابر ہوسکتے ہیں زندہ اور مردہ لوگ } یقینا اللہ سناتا ہے جس کو چاہتا ہے اور (اے نبی ﷺ !) آپ نہیں سنا سکتے انہیں جو قبروں کے اندر ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایک موازنہ ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چیزوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح ایماندار اور بے ایمان میں بھی بے انتہا فرق ہے۔ مومن آنکھوں والے اجالے، سائے اور زندہ کی مانند ہے۔ برخلاف اس کے
ایک موازنہ ٭٭…
ارشاد ہوتا ہے کہ مومن و کفار برابر نہیں۔ جس طرح اندھا اور دیکھتا۔ اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں۔ جس طرح ان چ