فاطر 35:42 واقسموا بالله جهد ايمانهم لين جاءهم نذير ليكونن اهدى من احدى الامم فلما جاءهم نذير ما زادهم الا نفورا ٤٢
وَاَقْسَمُوْا
بِاللّٰهِ
جَهْدَ
اَیْمَانِهِمْ
لَىِٕنْ
جَآءَهُمْ
نَذِیْرٌ
لَّیَكُوْنُنَّ
اَهْدٰی
مِنْ
اِحْدَی
الْاُمَمِ ۚ
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
نَذِیْرٌ
مَّا
زَادَهُمْ
اِلَّا
نُفُوْرَا
۟ۙ
اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں1 ۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے2 تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭…
قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «ااَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭…
قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول