فاطر 35:43 استكبارا في الارض ومكر السيي ولا يحيق المكر السيي الا باهله فهل ينظرون الا سنت الاولين فلن تجد لسنت الله تبديلا ولن تجد لسنت الله تحويلا ٤٣
سْتِكْبَارًا
فِی
الْاَرْضِ
وَمَكْرَ
السَّیِّىءِ ؕ
وَلَا
یَحِیْقُ
الْمَكْرُ
السَّیِّئُ
اِلَّا
بِاَهْلِهٖ ؕ
فَهَلْ
یَنْظُرُوْنَ
اِلَّا
سُنَّتَ
الْاَوَّلِیْنَ ۚ
فَلَنْ
تَجِدَ
لِسُنَّتِ
اللّٰهِ
تَبْدِیْلًا ۚ۬
وَلَنْ
تَجِدَ
لِسُنَّتِ
اللّٰهِ
تَحْوِیْلًا
۟
زمین میں تکبر کرتے ہوئے اور ُ بری چالیں چلتے ہوئے اور ُ بری چال کا وبال نہیں پڑتا مگر اس کے چلنے والے پر ہی تو وہ کس چیز کے انتظار میں ہیں سوائے پہلے والوں کے انجام کے تو تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون کو رخ پھیرتے ہوئے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭…
قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «ااَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭…
قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول