فصلت 41:17 واما ثمود فهديناهم فاستحبوا العمى على الهدى فاخذتهم صاعقة العذاب الهون بما كانوا يكسبون ١٧
وَاَمَّا
ثَمُوْدُ
فَهَدَیْنٰهُمْ
فَاسْتَحَبُّوا
الْعَمٰی
عَلَی
الْهُدٰی
فَاَخَذَتْهُمْ
صٰعِقَةُ
الْعَذَابِ
الْهُوْنِ
بِمَا
كَانُوْا
یَكْسِبُوْنَ
۟ۚ
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی1 پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی2 جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا.3
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرما دیجئیے کہ میری تعلیم سے روگردانی تمہیں کسی نیک نتیجے پر نہیں پہنچائے گی۔ یاد رکھو کہ جس طرح انبیاء علیہم السلام کی مخالف امتیں تم سے پہلے
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ٭٭…
حکم ہوتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم