فصلت 41:22 وما كنتم تستترون ان يشهد عليكم سمعكم ولا ابصاركم ولا جلودكم ولاكن ظننتم ان الله لا يعلم كثيرا مما تعملون ٢٢
وَمَا
كُنْتُمْ
تَسْتَتِرُوْنَ
اَنْ
یَّشْهَدَ
عَلَیْكُمْ
سَمْعُكُمْ
وَلَاۤ
اَبْصَارُكُمْ
وَلَا
جُلُوْدُكُمْ
وَلٰكِنْ
ظَنَنْتُمْ
اَنَّ
اللّٰهَ
لَا
یَعْلَمُ
كَثِیْرًا
مِّمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟
اور تم (اپنی بداعمالیاں) اس وجہ سے پوشیده رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی1 ، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سےاعمال سے اللہ بےخبر ہے.2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭…
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ” قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے “۔
جیسے فرمان ہے «وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا» [19-مريم:86] یعنی ” گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے “۔
انہیں ج
انسان اپنا دشمن آپ ہے ٭٭…
یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ ” قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے “۔
جیسے فرمان ہے «وَ