فصلت 41:34 ولا تستوي الحسنة ولا السيية ادفع بالتي هي احسن فاذا الذي بينك وبينه عداوة كانه ولي حميم ٣٤
وَلَا
تَسْتَوِی
الْحَسَنَةُ
وَلَا
السَّیِّئَةُ ؕ
اِدْفَعْ
بِالَّتِیْ
هِیَ
اَحْسَنُ
فَاِذَا
الَّذِیْ
بَیْنَكَ
وَبَیْنَهٗ
عَدَاوَةٌ
كَاَنَّهٗ
وَلِیٌّ
حَمِیْمٌ
۟
اور اے نبیؐ ،نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی کا محبوب انسان ٭٭…
فرماتا ہے ” جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہو گی؟ “ یہ ہے جس نے اپنے تئیں نفع پہنچایا اور خلق اللہ کو بھی اپنی ذات سے نفع پہنچایا۔ یہ ان میں نہیں جو منہ کے بڑے باتونی ہوتے ہیں جو دوسروں کو کہتے تو
اللہ تعالٰی کا محبوب انسان ٭٭…
فرماتا ہے ” جو اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے اور خود بھی نیکی کرے اسلام قبول کرے اس سے زیادہ اچھی بات اور کس کی ہو گ