غافر 40:11 قالوا ربنا امتنا اثنتين واحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل الى خروج من سبيل ١١
قَالُوْا
رَبَّنَاۤ
اَمَتَّنَا
اثْنَتَیْنِ
وَاَحْیَیْتَنَا
اثْنَتَیْنِ
فَاعْتَرَفْنَا
بِذُنُوْبِنَا
فَهَلْ
اِلٰی
خُرُوْجٍ
مِّنْ
سَبِیْلٍ
۟
وہ کہیں گے”اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، 1 اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں، 2 کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“ 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭…
قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہو جائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو ٭٭…
قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں