غافر 40:15 رفيع الدرجات ذو العرش يلقي الروح من امره على من يشاء من عباده لينذر يوم التلاق ١٥
رَفِیْعُ
الدَّرَجٰتِ
ذُو
الْعَرْشِ ۚ
یُلْقِی
الرُّوْحَ
مِنْ
اَمْرِهٖ
عَلٰی
مَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
لِیُنْذِرَ
یَوْمَ
التَّلَاقِ
۟ۙ
(وہی اللہ ہے) درجات کو بلند کرنے والا عرش کا مالک۔
یہاں پھر اللہ کی شان کا بیان مرکب اضافی کی شکل میں ہوا ہے وہ القا کرتا ہے روح کو اپنے امر میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ خبردار کر دے (لوگوں کو) ملاقات کے دن سے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے «مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَة
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا