غافر 40:18 وانذرهم يوم الازفة اذ القلوب لدى الحناجر كاظمين ما للظالمين من حميم ولا شفيع يطاع ١٨
وَاَنْذِرْهُمْ
یَوْمَ
الْاٰزِفَةِ
اِذِ
الْقُلُوْبُ
لَدَی
الْحَنَاجِرِ
كٰظِمِیْنَ ؕ۬
مَا
لِلظّٰلِمِیْنَ
مِنْ
حَمِیْمٍ
وَّلَا
شَفِیْعٍ
یُّطَاعُ
۟ؕ
اور (اے نبی ﷺ !) انہیں خبردار کر دیجئے اس نزدیک آجانے والے دن سے جبکہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم کو دبا رہے ہوں گے۔ ان ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہوگا جس کی بات مانی جائے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭…
«الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» [ 53- النجم: 57 ] ، یعنی قریب آنے والی قریب ہو چکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [ 5
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭…
«الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» [ 53- النجم: 57