غافر 40:25 فلما جاءهم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابناء الذين امنوا معه واستحيوا نساءهم وما كيد الكافرين الا في ضلال ٢٥
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
بِالْحَقِّ
مِنْ
عِنْدِنَا
قَالُوا
اقْتُلُوْۤا
اَبْنَآءَ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
مَعَهٗ
وَاسْتَحْیُوْا
نِسَآءَهُمْ ؕ
وَمَا
كَیْدُ
الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّا
فِیْ
ضَلٰلٍ
۟
پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو1 اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرعون کا بدترین حکم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی
فرعون کا بدترین حکم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و