غافر 40:26 وقال فرعون ذروني اقتل موسى وليدع ربه اني اخاف ان يبدل دينكم او ان يظهر في الارض الفساد ٢٦
وَقَالَ
فِرْعَوْنُ
ذَرُوْنِیْۤ
اَقْتُلْ
مُوْسٰی
وَلْیَدْعُ
رَبَّهٗ ۚ
اِنِّیْۤ
اَخَافُ
اَنْ
یُّبَدِّلَ
دِیْنَكُمْ
اَوْ
اَنْ
یُّظْهِرَ
فِی
الْاَرْضِ
الْفَسَادَ
۟
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور1 اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے2، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کردے.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرعون کا بدترین حکم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی
فرعون کا بدترین حکم ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و