غافر 40:43 لا جرم انما تدعونني اليه ليس له دعوة في الدنيا ولا في الاخرة وان مردنا الى الله وان المسرفين هم اصحاب النار ٤٣
لَا
جَرَمَ
اَنَّمَا
تَدْعُوْنَنِیْۤ
اِلَیْهِ
لَیْسَ
لَهٗ
دَعْوَةٌ
فِی
الدُّنْیَا
وَلَا
فِی
الْاٰخِرَةِ
وَاَنَّ
مَرَدَّنَاۤ
اِلَی
اللّٰهِ
وَاَنَّ
الْمُسْرِفِیْنَ
هُمْ
اَصْحٰبُ
النَّارِ
۟
یہ یقینی امر ہے1 کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وه تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے2 نہ آخرت میں3، اور یہ (بھی یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے4 اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں.5
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل ٭٭…
قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو؟
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل ٭٭…
قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک ل