غافر 40:50 قالوا اولم تك تاتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى قالوا فادعوا وما دعاء الكافرين الا في ضلال ٥٠
قَالُوْۤا
اَوَلَمْ
تَكُ
تَاْتِیْكُمْ
رُسُلُكُمْ
بِالْبَیِّنٰتِ ؕ
قَالُوْا
بَلٰی ؕ
قَالُوْا
فَادْعُوْا ۚ
وَمَا
دُعٰٓؤُا
الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّا
فِیْ
ضَلٰلٍ
۟۠
وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول ؑ نہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں (اور واضح تعلیمات) کے ساتھ ؟
وہ کہیں گے : ہاں (آئے تو تھے) !
وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو ! اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب ٭٭…
جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہو گا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑ
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب ٭٭…
جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون