هود 11:110 ولقد اتينا موسى الكتاب فاختلف فيه ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم وانهم لفي شك منه مريب ١١٠
وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
مُوْسَی
الْكِتٰبَ
فَاخْتُلِفَ
فِیْهِ ؕ
وَلَوْلَا
كَلِمَةٌ
سَبَقَتْ
مِنْ
رَّبِّكَ
لَقُضِیَ
بَیْنَهُمْ ؕ
وَاِنَّهُمْ
لَفِیْ
شَكٍّ
مِّنْهُ
مُرِیْبٍ
۟
یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ پھر اس میں اختلاف کیا گیا،1 اگر پہلے ہی آپ کے رب کی بات صادر نہ ہوگئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ کر دیا جاتا2، انہیں تو اس میں سخت شبہ ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مشرکوں کا حشر ٭٭…
مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسی
مشرکوں کا حشر ٭٭…
مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں