هود 11:114 واقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذالك ذكرى للذاكرين ١١٤
وَاَقِمِ
الصَّلٰوةَ
طَرَفَیِ
النَّهَارِ
وَزُلَفًا
مِّنَ
الَّیْلِ ؕ
اِنَّ
الْحَسَنٰتِ
یُذْهِبْنَ
السَّیِّاٰتِ ؕ
ذٰلِكَ
ذِكْرٰی
لِلذّٰكِرِیْنَ
۟ۚ
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔1 در حقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اوقات نماز کی نشاندہی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کہتے ہیں ”دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔“ قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول ہے کہ ”پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز۔“ بقول مجاہد رحمہ اللہ وغی
اوقات نماز کی نشاندہی ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کہتے ہیں ”دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔“ قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہ