هود 11:116 فلولا كان من القرون من قبلكم اولو بقية ينهون عن الفساد في الارض الا قليلا ممن انجينا منهم واتبع الذين ظلموا ما اترفوا فيه وكانوا مجرمين ١١٦
فَلَوْلَا
كَانَ
مِنَ
الْقُرُوْنِ
مِنْ
قَبْلِكُمْ
اُولُوْا
بَقِیَّةٍ
یَّنْهَوْنَ
عَنِ
الْفَسَادِ
فِی
الْاَرْضِ
اِلَّا
قَلِیْلًا
مِّمَّنْ
اَنْجَیْنَا
مِنْهُمْ ۚ
وَاتَّبَعَ
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
مَاۤ
اُتْرِفُوْا
فِیْهِ
وَكَانُوْا
مُجْرِمِیْنَ
۟
سو کیویں نہ ہوئے ان جماعتوں میں جو تم سے پہلے تھیں ایسے لوگ جن میں اثر خیر رہا ہو کہ منع کرتے رہتے بگاڑ کرنے سے ملک میں مگر تھوڑے کہ جن کو ہم نے بچا لیا ان میں سے اور چلے وہ لوگ (اور پیچھے پڑے رہے ظالم اسی چیز کے جس میں ان کو عیش ملا) جو ظالم تھے وہی راہ جس میں عیش سے رہتے تھے اور تھے گنہگار 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭…
یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں، یہی وہ ہیں جنہیں ہم اپنے عذاب سے بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت میں ایسی جماعت کی موجودگی کا قطعی اور فرضی حکم دیا۔ فرمایا
نیکی کی دعوت دینے والے چند لوگ ٭٭…
یعنی سوائے چند لوگوں کے ہم گزشتہ زمانے کے لوگوں میں ایسے کیوں نہیں پاتے جو شریروں اور منکروں کو برائیوں سے روکتے رہیں