هود 11:87 قالوا يا شعيب اصلاتك تامرك ان نترك ما يعبد اباونا او ان نفعل في اموالنا ما نشاء انك لانت الحليم الرشيد ٨٧
قَالُوْا
یٰشُعَیْبُ
اَصَلٰوتُكَ
تَاْمُرُكَ
اَنْ
نَّتْرُكَ
مَا
یَعْبُدُ
اٰبَآؤُنَاۤ
اَوْ
اَنْ
نَّفْعَلَ
فِیْۤ
اَمْوَالِنَا
مَا
نَشٰٓؤُا ؕ
اِنَّكَ
لَاَنْتَ
الْحَلِیْمُ
الرَّشِیْدُ
۟
انہوں نے جواب دیا”اے شعیب ؑ ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے1 کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصّرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟2 بس تُو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے !“
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار ٭٭…
اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے حکم دیا کہ ہم باپ دادوں کی روش کو چھوڑ کر اپنے پرانے معبودوں کی عبادت سے دست بردار ہو جائیں۔ یہ اور بھی لطف ہے کہ ہم اپنے مال کے بھی مالک نہ رہیں کہ
پرانے معبودوں سے دستبرداری سے انکار ٭٭…
اعمش فرماتے ہیں صلواۃ سے مراد یہاں قرأت ہے۔ وہ لوگ ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ واہ آپ اچھے رہے کہ آپ کو آپ کی قرآت نے