هود 11:88 قال يا قوم ارايتم ان كنت على بينة من ربي ورزقني منه رزقا حسنا وما اريد ان اخالفكم الى ما انهاكم عنه ان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب ٨٨
قَالَ
یٰقَوْمِ
اَرَءَیْتُمْ
اِنْ
كُنْتُ
عَلٰی
بَیِّنَةٍ
مِّنْ
رَّبِّیْ
وَرَزَقَنِیْ
مِنْهُ
رِزْقًا
حَسَنًا ؕ
وَمَاۤ
اُرِیْدُ
اَنْ
اُخَالِفَكُمْ
اِلٰی
مَاۤ
اَنْهٰىكُمْ
عَنْهُ ؕ
اِنْ
اُرِیْدُ
اِلَّا
الْاِصْلَاحَ
مَا
اسْتَطَعْتُ ؕ
وَمَا
تَوْفِیْقِیْۤ
اِلَّا
بِاللّٰهِ ؕ
عَلَیْهِ
تَوَكَّلْتُ
وَاِلَیْهِ
اُنِیْبُ
۟
بولا اے قوم دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ آ گئ اپنے رب کی طرف سے اور اس نے روزی دی مجھ کو نیک روزی 1 اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد کو خود کروں وہ کام جو تم سے چھڑاؤں 2 میں تو چاہتا ہوں سنوارنا جہاں تک ہو سکے اور بن آنا ہے اللہ کی مدد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم کو تبلیغ ٭٭…
آپ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”دیکھو میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل و حجت اور بصیرت پر قائم ہوں اور اسی کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔ اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ یعنی نبوت یا رزق حلال یا دونوں، میری روش تم یہ نہ پاؤ گے کہ تمہیں تو بھلی بات کا حکم کروں اور
قوم کو تبلیغ ٭٭…
آپ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ ”دیکھو میں اپنے رب کی طرف سے کسی دلیل و حجت اور بصیرت پر قائم ہوں اور اسی کی طرف تمہیں بلا رہا