ابراهيم 14:22 وقال الشيطان لما قضي الامر ان الله وعدكم وعد الحق ووعدتكم فاخلفتكم وما كان لي عليكم من سلطان الا ان دعوتكم فاستجبتم لي فلا تلوموني ولوموا انفسكم ما انا بمصرخكم وما انتم بمصرخي اني كفرت بما اشركتمون من قبل ان الظالمين لهم عذاب اليم ٢٢
وَقَالَ
الشَّیْطٰنُ
لَمَّا
قُضِیَ
الْاَمْرُ
اِنَّ
اللّٰهَ
وَعَدَكُمْ
وَعْدَ
الْحَقِّ
وَوَعَدْتُّكُمْ
فَاَخْلَفْتُكُمْ ؕ
وَمَا
كَانَ
لِیَ
عَلَیْكُمْ
مِّنْ
سُلْطٰنٍ
اِلَّاۤ
اَنْ
دَعَوْتُكُمْ
فَاسْتَجَبْتُمْ
لِیْ ۚ
فَلَا
تَلُوْمُوْنِیْ
وَلُوْمُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ ؕ
مَاۤ
اَنَا
بِمُصْرِخِكُمْ
وَمَاۤ
اَنْتُمْ
بِمُصْرِخِیَّ ؕ
اِنِّیْ
كَفَرْتُ
بِمَاۤ
اَشْرَكْتُمُوْنِ
مِنْ
قَبْلُ ؕ
اِنَّ
الظّٰلِمِیْنَ
لَهُمْ
عَذَابٌ
اَلِیْمٌ
۟
اور بولا شیطان جب فیصل ہو چکا سب کام بیشک اللہ نے تم کو دیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر (سو) جھوٹا کیا اور میری تم پر کچھ حکومت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے بلایا تم کو پھر تم نے مان لیا میری بات کو سو الزام نہ دو مجھ کو اور الزام دو اپنے آپ کو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچوں نہ تم میری فریاد کو پہنچو میں منکر ہوں (مجھ کو قبول نہیں) جو تم نے مجھ کو شریک بنایا تھا اس سے پہلے البتہ جو ظالم ہیں انکے لئے ہے عذاب دردناک 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭…
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ ”اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لی
طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭…
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان س