ابراهيم 14:31 قل لعبادي الذين امنوا يقيموا الصلاة وينفقوا مما رزقناهم سرا وعلانية من قبل ان ياتي يوم لا بيع فيه ولا خلال ٣١
قُلْ
لِّعِبَادِیَ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
یُقِیْمُوا
الصَّلٰوةَ
وَیُنْفِقُوْا
مِمَّا
رَزَقْنٰهُمْ
سِرًّا
وَّعَلَانِیَةً
مِّنْ
قَبْلِ
اَنْ
یَّاْتِیَ
یَوْمٌ
لَّا
بَیْعٌ
فِیْهِ
وَلَا
خِلٰلٌ
۟
اے نبی ؐ ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے کھُلے اور چھُپے(راہِ خیرمیں)خرچ کریں1 قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسان اور احسن سلوک ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کا اور اپنے حق ماننے کا اور مخلوق رب سے احسان وسلوک کرنے کا حکم دے رہا ہے فرماتا ہے کہ ” نماز برابر پڑھتے رہیں جو اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت ہے اور زکوٰۃ ضرور دیتے رہیں قرابت داروں کو بھی اور انجان لوگوں کو بھی “۔
اقامت سے
احسان اور احسن سلوک ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کا اور اپنے حق ماننے کا اور مخلوق رب سے احسان وسلوک کرنے کا حکم دے رہا ہے فرماتا ہے کہ ” نم