ابراهيم 14:35 واذ قال ابراهيم رب اجعل هاذا البلد امنا واجنبني وبني ان نعبد الاصنام ٣٥
وَاِذْ
قَالَ
اِبْرٰهِیْمُ
رَبِّ
اجْعَلْ
هٰذَا
الْبَلَدَ
اٰمِنًا
وَّاجْنُبْنِیْ
وَبَنِیَّ
اَنْ
نَّعْبُدَ
الْاَصْنَامَ
۟ؕ
(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے1 ، اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حرمت وعظمت کا مالک شہر ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ السلام اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے بری تھے۔ انہی نے اس شہر کے با امن ہونے کی دعا کی تھی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی “۔
«أَوَلَمْ يَ
حرمت وعظمت کا مالک شہر ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” حرمت والا شہر مکہ ابتداء میں اللہ کی توحید پر ہی بنایا گیا تھا۔ اس کے اول بانی خلیل اللہ علیہ