لقمان 31:16 يا بني انها ان تك مثقال حبة من خردل فتكن في صخرة او في السماوات او في الارض يات بها الله ان الله لطيف خبير ١٦
یٰبُنَیَّ
اِنَّهَاۤ
اِنْ
تَكُ
مِثْقَالَ
حَبَّةٍ
مِّنْ
خَرْدَلٍ
فَتَكُنْ
فِیْ
صَخْرَةٍ
اَوْ
فِی
السَّمٰوٰتِ
اَوْ
فِی
الْاَرْضِ
یَاْتِ
بِهَا
اللّٰهُ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَطِیْفٌ
خَبِیْرٌ
۟
پیارے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو1 پھر وه (بھی) خواه کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور ﻻئے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭…
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭…
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل