لقمان 31:17 يا بني اقم الصلاة وامر بالمعروف وانه عن المنكر واصبر على ما اصابك ان ذالك من عزم الامور ١٧
یٰبُنَیَّ
اَقِمِ
الصَّلٰوةَ
وَاْمُرْ
بِالْمَعْرُوْفِ
وَانْهَ
عَنِ
الْمُنْكَرِ
وَاصْبِرْ
عَلٰی
مَاۤ
اَصَابَكَ ؕ
اِنَّ
ذٰلِكَ
مِنْ
عَزْمِ
الْاُمُوْرِ
۟ۚ
بیٹا ، نماز قائم کر، نیکی کا حکم دے، بدی سے منع کر ، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر 1۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭…
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل کریں۔ فرماتے ہیں کہ ”برائی، خطا، ظلم ہے چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش
قیامت کے دن اعلیٰ اخلاق کام آئے گا ٭٭…
حضرت لقمان کی یہ اور وصیتیں ہیں اور چونکہ یہ سب حکمتوں سے پر ہیں۔ قرآن انہیں بیان فرما رہا ہے تاکہ لوگ ان پر عمل