مريم 19:64 وما نتنزل الا بامر ربك له ما بين ايدينا وما خلفنا وما بين ذالك وما كان ربك نسيا ٦٤
وَمَا
نَتَنَزَّلُ
اِلَّا
بِاَمْرِ
رَبِّكَ ۚ
لَهٗ
مَا
بَیْنَ
اَیْدِیْنَا
وَمَا
خَلْفَنَا
وَمَا
بَیْنَ
ذٰلِكَ ۚ
وَمَا
كَانَ
رَبُّكَ
نَسِیًّا
۟ۚ
اور (اے نبی ﷺ !) ہم (فرشتے) نہیں نازل ہوتے مگر آپ کے رب کے حکم سے اسی کے اختیار میں ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ ﷺ کا رب بھولنے والا نہیں ہے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر کیوں؟ ٭٭…
صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: آپ جتنا آتے ہیں، اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری ہے۔ [صحیح بخاری:3218]
یہ بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام کے آنے
جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر کیوں؟ ٭٭…
صحیح بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا: آپ جتن