محمد 47:16 ومنهم من يستمع اليك حتى اذا خرجوا من عندك قالوا للذين اوتوا العلم ماذا قال انفا اولايك الذين طبع الله على قلوبهم واتبعوا اهواءهم ١٦
وَمِنْهُمْ
مَّنْ
یَّسْتَمِعُ
اِلَیْكَ ۚ
حَتّٰۤی
اِذَا
خَرَجُوْا
مِنْ
عِنْدِكَ
قَالُوْا
لِلَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْعِلْمَ
مَاذَا
قَالَ
اٰنِفًا ۫
اُولٰٓىِٕكَ
الَّذِیْنَ
طَبَعَ
اللّٰهُ
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
وَاتَّبَعُوْۤا
اَهْوَآءَهُمْ
۟
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭…
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کی
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭…
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی ا