محمد 47:18 فهل ينظرون الا الساعة ان تاتيهم بغتة فقد جاء اشراطها فانى لهم اذا جاءتهم ذكراهم ١٨
فَهَلْ
یَنْظُرُوْنَ
اِلَّا
السَّاعَةَ
اَنْ
تَاْتِیَهُمْ
بَغْتَةً ۚ
فَقَدْ
جَآءَ
اَشْرَاطُهَا ۚ
فَاَنّٰی
لَهُمْ
اِذَا
جَآءَتْهُمْ
ذِكْرٰىهُمْ
۟
تو یہ لوگ اب کس چیز کے منتظر ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آدھمکے ان پر اچانک ؟ پس اس کی علامات تو ظاہر ہو ہی چکی ہیں تو جب وہ ان پر آدھمکے گی تو اس وقت ان کا نصیحت حاصل کرنا کس کام کا ہوگا ؟
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭…
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سن لینے کے، پاس بیٹھے ہونے کے، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کی
بے وقوف ، کند ذہن اور جاہل ٭٭…
منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی، ناسمجھی اور بیوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے، کلام الرسول صلی ا