محمد 47:30 ولو نشاء لاريناكهم فلعرفتهم بسيماهم ولتعرفنهم في لحن القول والله يعلم اعمالكم ٣٠
وَلَوْ
نَشَآءُ
لَاَرَیْنٰكَهُمْ
فَلَعَرَفْتَهُمْ
بِسِیْمٰهُمْ ؕ
وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ
فِیْ
لَحْنِ
الْقَوْلِ ؕ
وَاللّٰهُ
یَعْلَمُ
اَعْمَالَكُمْ
۟
اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو یہ لوگ دکھا دیں اس طرح کہ آپ ان کے چہروں سے انہیں پہچان لیں گے۔ اور آپ انہیں لازماً پہچان لیں گے (ان کی) گفتگو کے انداز سے۔ اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭…
یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خیال ہے اللہ تعالیٰ ان کا مکر اس طرح واضح کر دے گا کہ ہر عقلمند انہیں پہچان لے اور ان کی بدباطنی سے بچ سکے۔ ان کے بہت سے احوال سورۃ براۃ میں بیان کئے گئ
منافق کو اس کے چہرے کی زبان سے پہچانو ٭٭…
یعنی کیا منافقوں کا خیال ہے کہ ان کی مکاری اور عیاری کا اظہار اللہ مسلمانوں پر کرے گا ہی نہیں؟ یہ بالکل غلط خی