محمد 47:36 انما الحياة الدنيا لعب ولهو وان تومنوا وتتقوا يوتكم اجوركم ولا يسالكم اموالكم ٣٦
اِنَّمَا
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَا
لَعِبٌ
وَّلَهْوٌ ؕ
وَاِنْ
تُؤْمِنُوْا
وَتَتَّقُوْا
یُؤْتِكُمْ
اُجُوْرَكُمْ
وَلَا
یَسْـَٔلْكُمْ
اَمْوَالَكُمْ
۟
یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔1 اگر تم ایمان رکھو اور تقوٰی کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭…
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے لیے کئے جائیں وہ باقی رہ جاتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی ذات بے پرواہ ہے تمہارے بھلے کام تمہارے ہی نفع کیلئے ہیں وہ تمہارے مالوں کا بھوکا نہیں اس
سخاوت کے فائدے اور بخل کے نقصانات ٭٭…
دنیا کی حقارت اور اس کی قلت و ذلت بیان ہو رہی ہے کہ اس سے سوائے کھیل تماشے کے اور کچھ حاصل نہیں ہاں جو کام اللہ کے