نوح 71:26 وقال نوح رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا ٢٦
وَقَالَ
نُوْحٌ
رَّبِّ
لَا
تَذَرْ
عَلَی
الْاَرْضِ
مِنَ
الْكٰفِرِیْنَ
دَیَّارًا
۟
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭…
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ” اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے ان کی سرکشی، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت و دشمنی رسول حد سے گزر گئی تو انہیں پانی میں ڈبو دیا گیا، اور یہاں سے آگ کے گڑھے میں دھکیل دیئے گئے اور
کثرت گناہ تباہی کو دعوت دیتا ہے ٭٭…
«خَطِيئَاتِهِمْ» کی دوسری قرأت «خَطَایَاھُمْ» بھی ہے فرماتا ” اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے یہ لوگ ہلاک کر دیئے