نوح 71:4 يغفر لكم من ذنوبكم ويوخركم الى اجل مسمى ان اجل الله اذا جاء لا يوخر لو كنتم تعلمون ٤
یَغْفِرْ
لَكُمْ
مِّنْ
ذُنُوْبِكُمْ
وَیُؤَخِّرْكُمْ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
مُّسَمًّی ؕ
اِنَّ
اَجَلَ
اللّٰهِ
اِذَا
جَآءَ
لَا
یُؤَخَّرُ ۘ
لَوْ
كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟
تو وه تمہارے گناه بخش دے گا اور تمہیں ایک وقت مقرره تک چھوڑ دے گا1 ۔ یقیناً اللہ کا وعده جب آجاتا ہے تو مؤخر نہیں ہوتا2۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی.3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم دیا کہ عذاب کے آنے سے پہلے اپنی قوم کو ہوشیار کر دو اگر وہ توبہ کر لیں گے اور اللہ کی طرف جھکنے لگیں گے تو اللہ کا عذاب ان سے اٹھ جائے گا۔
نوح علیہ ال
عذاب سے پہلے نوح علیہ السلام کا قوم سے خطاب ٭٭…
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا اور حکم د