سبإ 34:19 فقالوا ربنا باعد بين اسفارنا وظلموا انفسهم فجعلناهم احاديث ومزقناهم كل ممزق ان في ذالك لايات لكل صبار شكور ١٩
فَقَالُوْا
رَبَّنَا
بٰعِدْ
بَیْنَ
اَسْفَارِنَا
وَظَلَمُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
فَجَعَلْنٰهُمْ
اَحَادِیْثَ
وَمَزَّقْنٰهُمْ
كُلَّ
مُمَزَّقٍ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیٰتٍ
لِّكُلِّ
صَبَّارٍ
شَكُوْرٍ
۟
مگر انہوں نے کہا”اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔ 1“ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِتّر کر ڈالا 2۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم سبا پر اللہ کی نعمتیں ٭٭…
ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ ہر ہر منزل پر پختہ مزے دار تازے میوے خوشگوار میٹھا پانی موجود ہر رات کو کسی بستی میں گزار لیں اور راحت و آرام امن و امان سے جائیں آئیں
قوم سبا پر اللہ کی نعمتیں ٭٭…
ان پر جو نعمتیں تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ قریب قریب آبادیاں تھیں۔ کسی مسافر کو اپنے سفر میں توشہ یا پانی ساتھ لے جانے کی