سبإ 34:3 وقال الذين كفروا لا تاتينا الساعة قل بلى وربي لتاتينكم عالم الغيب لا يعزب عنه مثقال ذرة في السماوات ولا في الارض ولا اصغر من ذالك ولا اكبر الا في كتاب مبين ٣
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
لَا
تَاْتِیْنَا
السَّاعَةُ ؕ
قُلْ
بَلٰی
وَرَبِّیْ
لَتَاْتِیَنَّكُمْ ۙ
عٰلِمِ
الْغَیْبِ ۚ
لَا
یَعْزُبُ
عَنْهُ
مِثْقَالُ
ذَرَّةٍ
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَلَا
فِی
الْاَرْضِ
وَلَاۤ
اَصْغَرُ
مِنْ
ذٰلِكَ
وَلَاۤ
اَكْبَرُ
اِلَّا
فِیْ
كِتٰبٍ
مُّبِیْنٍ
۟ۗۙ
اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی (اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم جو تمام پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے وہ تم پر ضرور آکر رہے گی اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ذرّہ برابر بھی کوئی چیز نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں } اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز اور نہ بڑی مگر وہ ایک روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) موجود ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قیامت آ کر رہے گی ٭٭…
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» [10-يونس:53] ” لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا
قیامت آ کر رہے گی ٭٭…
پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ ا