سبإ 34:33 وقال الذين استضعفوا للذين استكبروا بل مكر الليل والنهار اذ تامروننا ان نكفر بالله ونجعل له اندادا واسروا الندامة لما راوا العذاب وجعلنا الاغلال في اعناق الذين كفروا هل يجزون الا ما كانوا يعملون ٣٣
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
اسْتُضْعِفُوْا
لِلَّذِیْنَ
اسْتَكْبَرُوْا
بَلْ
مَكْرُ
الَّیْلِ
وَالنَّهَارِ
اِذْ
تَاْمُرُوْنَنَاۤ
اَنْ
نَّكْفُرَ
بِاللّٰهِ
وَنَجْعَلَ
لَهٗۤ
اَنْدَادًا ؕ
وَاَسَرُّوا
النَّدَامَةَ
لَمَّا
رَاَوُا
الْعَذَابَ ؕ
وَجَعَلْنَا
الْاَغْلٰلَ
فِیْۤ
اَعْنَاقِ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا ؕ
هَلْ
یُجْزَوْنَ
اِلَّا
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
(اس کے جواب میں) یہ کمزور لوگ ان متکبروں سے کہیں گے، (نہیں نہیں) بلکہ دن رات مکروفریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا تمہارا حکم دینا ہماری بےایمانی کا باعﺚ ہوا1 ، اور عذاب کو دیکھتے ہی سب کے سب دل میں پشیمان ہو رہے ہوں گے2، اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈال دیں گے3 انہیں صرف ان کے کئے کرائے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا.4
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کافروں کی سرکشی ٭٭…
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں
کافروں کی سرکشی ٭٭…
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہی