سبإ 34:34 وما ارسلنا في قرية من نذير الا قال مترفوها انا بما ارسلتم به كافرون ٣٤
وَمَاۤ
اَرْسَلْنَا
فِیْ
قَرْیَةٍ
مِّنْ
نَّذِیْرٍ
اِلَّا
قَالَ
مُتْرَفُوْهَاۤ ۙ
اِنَّا
بِمَاۤ
اُرْسِلْتُمْ
بِهٖ
كٰفِرُوْنَ
۟
اور ہم تو جس بستی میں جو بھی آگاه کرنے واﻻ بھیجا وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے ساتھ کفر کرنے1 والے ہیں.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا۔ ہاں غرباء نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنے نبی سے کہا تھا «قَ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرمات