سبإ 34:39 قل ان ربي يبسط الرزق لمن يشاء من عباده ويقدر له وما انفقتم من شيء فهو يخلفه وهو خير الرازقين ٣٩
قُلْ
اِنَّ
رَبِّیْ
یَبْسُطُ
الرِّزْقَ
لِمَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ
وَیَقْدِرُ
لَهٗ ؕ
وَمَاۤ
اَنْفَقْتُمْ
مِّنْ
شَیْءٍ
فَهُوَ
یُخْلِفُهٗ ۚ
وَهُوَ
خَیْرُ
الرّٰزِقِیْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ یقینا میرا ربّ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور (جسے چاہتا ہے) اس کے لیے تنگ کردیتا ہے۔ اور جو کچھ بھی تم لوگ خرچ کرتے ہو تو وہ اسے لوٹا دیتا ہے۔ } اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭…
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔
جیسے فرمایا «اُنْظُرْ كَيْفَ فَض
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭…
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہ